مالیگاؤں (ناؤنیوز اپڈیٹ) ناسک کی TCS کمپنی میں مبینہ مذہب تبدیلی (دھرم پریورتن) کے الزام میں گرفتار ندا خان اور ان کے ساتھیوں کے معاملے میں قانونی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ اس سلسلے میں مالیگاؤں کے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ نے آج ناسک پولیس کمشنر سے ملاقات کرتے ہوئے پانچ ملزمین کے اہل خانہ کے ساتھ تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ناسک کے دیوالی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر 156/2026 کے تحت ندا اعجاز خان، دانش شیخ اعجاز شیخ، متین پٹیل سمیت چھ افراد کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔
اس معاملے میں بعض سماجی و اقلیتی تنظیموں کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ مسلم تعلیم یافتہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ گرفتار ملزم دانش شیخ کے اہل خانہ نے حال ہی میں آصف شیخ اور مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی سے ملاقات کرکے قانونی تعاون کی درخواست کی تھی۔ اس موقع پر آصف شیخ نے یقین دہانی کرائی تھی کہ ناانصافی کے خلاف مالیگاؤں ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔
اسی سلسلے میں آصف شیخ اپنی قانونی ٹیم کے رکن ایڈوکیٹ فیض واصف کے ہمراہ ناسک عدالت بھی پہنچے تھے، جہاں انہوں نے وکالت نامہ داخل کیا۔ اس مقدمے کی آئندہ سماعت 12 جون کو متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق آصف شیخ کی اس کیس میں سرگرم مداخلت کے بعد دیگر ملزمین کے اہل خانہ نے بھی ان سے رابطہ کرکے تعاون کی اپیل کی۔ چنانچہ بدھ کی شام تقریباً پانچ بجے آصف شیخ نے پانچ ملزمین کے اہل خانہ کے ہمراہ ناسک پولیس کمشنر سے ملاقات کی اور کیس کے مختلف قانونی پہلوؤں پر گفتگو کی۔
ملاقات کے دوران آصف شیخ نے متاثرہ خاندانوں سے طویل تبادلۂ خیال کرتے ہوئے انہیں ہر ممکن قانونی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ مالیگاؤں مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کا لیگل سیل بھی اس معاملے میں اپنی خدمات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ ملزمین کو قانونی حقوق کے مطابق انصاف دلانے کی کوشش کی جا سکے۔
Tags
Urdu