مالیگاؤں (ناؤ نیوز اپڈیٹ) سینئر سماجی کارکن اور معروف تعلیمی شخصیت سونم وانگچوک کی جاری بھوک ہڑتال کی حمایت میں مالیگاؤں میں طلباء اور باشعور شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین گاندھی پتلہ کے مقام پر جمع ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے تعلیمی نظام میں اصلاحات اور پیپر لیک جیسے سنگین مسائل کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر "پیپر لیک بند کرو"، "طلبہ کے مستقبل سے کھلواڑ بند کرو" اور "تعلیم بچاؤ، ملک بچاؤ" جیسے نعرے درج تھے۔ شرکاء نے سونم وانگچوک کی جدوجہد کو طلبہ کے حقوق اور ملک کے تعلیمی مستقبل کی جنگ قرار دیا۔
مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ سونم وانگچوک گزشتہ بیس دنوں سے زائد عرصے سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں اور ان کا بنیادی مطالبہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کے خلاف سخت قانون سازی، ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی نظام کو شفاف اور مضبوط بنانا ہے۔احتجاج کے دوران ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کے اس قول کا حوالہ بھی دیا گیا کہ "تعلیم شیرنی کا دودھ ہے، جو اسے پیتا ہے وہ دھاڑنا سیکھ جاتا ہے"۔ مقررین نے کہا کہ تعلیم ہی قوموں کی ترقی اور خوشحالی کی بنیاد ہے، لہٰذا حکومت کو طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
مظاہرین نے حکومت کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کسی بھی قسم کا کھلواڑ برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے سونم وانگچوک سے اپیل کی کہ وہ اپنی صحت کا خیال رکھتے ہوئے بھوک ہڑتال ختم کریں کیونکہ قوم کو ان کی خدمات اور قیادت کی ضرورت ہے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ حکومت پیپر لیک اسکینڈلز پر قابو پانے، تعلیمی نظام میں شفافیت لانے اور طلبہ کے حقوق کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے تاکہ نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔
