مالیگاؤں: بجلی کے کرنٹ سے کمپنی ملازم جاں بحق، 13 سالہ لڑکا شدید زخمی، ایم پی ایس ایل پر لاپرواہی کے الزامات

مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) مالیگاؤں شہر میں نجی بجلی کمپنی ایم پی ایس ایل (MPSL) کی مبینہ لاپرواہی ایک بار پھر سوالات کی زد میں آگئی ہے۔ تازہ پیش آئے دو الگ الگ حادثات میں بجلی کمپنی کا ایک ملازم دورانِ ڈیوٹی کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا، جبکہ ایک 13 سالہ لڑکا شدید زخمی ہوگیا۔ تفصیلات کے مطابق نعمانی نگر گلی نمبر 4 کے رہائشی محمد ابراہیم عرف گڈو وائرمین آج بجلی کمپنی کے کام کے سلسلے میں سوئیگاؤں علاقے میں موجود تھے کہ اچانک انہیں شدید برقی جھٹکا لگا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ متوفی بجلی کمپنی میں خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کے پسماندگان میں بیوہ اور تین بچے شامل ہیں۔ حادثے کے بعد نعش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کردیا گیا۔

دوسری جانب ایک الگ واقعے میں دانیال محمد ماجد (13 سال) کرنٹ لگنے سے شدید زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر علاج کے لیے سول اسپتال میں داخل کرایا گیا، جہاں اس کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی وارڈ کے کارپوریٹر خالد حاجی سول اسپتال پہنچے اور متوفی کے اہل خانہ کو قانونی معاونت فراہم کی۔ اس موقع پر سماجی کارکن حاجی شفیق (اینٹی کرپشن)، خالد ایس کے اور ضیا مسکان بھی موجود تھے۔ مذکورہ افراد نے الزام عائد کیا کہ شہر میں بجلی کے ناقص نظام، بوسیدہ کیبل وائرز اور حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث اس نوعیت کے حادثات مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی کئی افراد اور مویشی کرنٹ لگنے سے جان گنوا چکے ہیں، تاہم متعدد شکایات کے باوجود بجلی کمپنی کی جانب سے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔

گیٹ نیتا خالد حاجی نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کمپنی کو آخری موقع دیا جا رہا ہے کہ وہ شہر بھر میں خستہ حال کیبل وائرز کو فوری تبدیل کرکے نظام کو محفوظ بنائے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کمپنی نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو عوام کے ساتھ مل کر احتجاجی دھرنا اور تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہونے والے محمد ابراہیم کے اہل خانہ اور زخمی دانیال محمد ماجد کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے، بصورت دیگر عوامی سطح پر بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔


حادثے کی اطلاع ملتے ہی بجلی کمپنی کے مینٹیننس ہیڈ ساحل اور پولیس اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے خالد حاجی اور دیگر ذمہ داران سے ملاقات کرتے ہوئے معاملے کی جانچ اور ضروری اصلاحی اقدامات کی یقین دہانی کرائی۔ بعد ازاں کارپوریٹر خالد حاجی اور گیٹ نیتا خالد حاجی کی مداخلت اور مسلسل پیروی کے نتیجے میں بجلی کمپنی کی جانب سے متوفی محمد ابراہیم کی بیوہ کے بینک اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپے بطور معاوضہ منتقل کیے گئے۔ اگرچہ یہ رقم ایک قیمتی انسانی جان کا نعم البدل نہیں ہوسکتی، تاہم فوری مالی امداد سے غمزدہ اور بے سہارا خاندان کو وقتی سہارا ضرور ملا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خاندان کا واحد کفیل اس دنیا سے رخصت ہوچکا ہے۔ شہریان کی جانب سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ شہر بھر میں بجلی کے نظام کا فوری تکنیکی آڈٹ کرکے عوام کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post