متوفیہ کے اہلِ خانہ کا ہنگامہ، بچے کو تھیلے میں رکھنے کا الزام؛ پوار واڑی پولیس میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع
مالیگاؤں (ناؤنیوزاپڈیٹ) مالیگاؤں شہر میں پیش آئے ایک المناک واقعے نے عوامی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ڈلیوری کے دوران مبینہ طبی لاپروائی کے باعث 29 سالہ خاتون نورجہاں اور اس کے نومولود بچے کی موت واقع ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ متوفیہ کے اہلِ خانہ نے متعلقہ خاتون ڈاکٹر اور زچگی خانہ انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ متوفیہ کی والدہ شہناز بانو کے مطابق ان کی بیٹی گزشتہ تقریباً پانچ ماہ سے کمالپورہ علاقے میں واقع صدیقی میٹرنٹی ہوم میں وقفے وقفے سے علاج و معالجہ جاری تھا۔
انہوں نے بتایا کہ زچگی کے لیے نورجہاں کو دواخانے میں داخل کرایا گیا تھا، جہاں معائنے کے بعد ڈاکٹر نے خون کی کمی (انیمیا) کی شکایت بتائی تھی۔ تاہم اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ ڈلیوری کے دوران مناسب طبی نگہداشت اور بروقت علاج فراہم نہ کیے جانے کے سبب پہلے نومولود بچے اور بعد ازاں نورجہاں کی جان چلی گئی۔اہلِ خانہ نے مزید الزام لگایا کہ نومولود بچے کی لاش کو غیر مناسب انداز میں ایک تھیلے میں رکھا گیا اور بعد ازاں انہیں دواخانے سے منتقل ہونے کے لیے کہا گیا۔ متوفیہ کی والدہ کے مطابق ایک رکشا ڈرائیور کی مدد سے خاتون کو مزید علاج کے لیے اقراء ہسپتال لے جایا گیا، تاہم وہاں بیڈ دستیاب نہ ہونے کے باعث انہیں سول ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے خاتون کو مردہ قرار دیا۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی سماجی کارکن شفیق اینٹی کرپشن بھی موقع پر پہنچے۔ انہوں نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اہلِ خانہ کے الزامات درست ہیں تو یہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا معاملہ ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندان کو قانونی معاونت فراہم کرنے کا بھی یقین دلایا۔ ذرائع کے مطابق اس معاملے میں پوار واڑی پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کرنے کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے اور پولیس مختلف پہلوؤں سے جانچ کر رہی ہے۔
تاہم خبر لکھے جانے تک متعلقہ ڈاکٹر، دواخانہ انتظامیہ یا کسی ذمہ دار سرکاری افسر کا باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔شہر میں اس واقعے کے بعد عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کر کے اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپروائی ثابت ہو تو ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے، تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
