مالیگاؤں(ناؤنیوزاپڈیٹ: رضوان سر) آج کا دور سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور اس میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جس کے ذریعے مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے، سیکھنے اور فیصلے کرنے کے قابل ہو جاتی ہیں۔ موجودہ زمانے میں AI کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور یہ ہماری روزمرہ زندگی کو آسان اور مؤثر بنا رہا ہے۔ سابقہ مضمون میں، راقم نے لکھا تھا کہ AI کا بہترین استعمال انسانیت کی فلاح و بہبود کے لئے بڑے پیمانے پر ہورہا ہے لیکن ایک خدشہ کا اظہار باقی رہ گیا تھا، وہ ہے ممنوع AI کا استعمال۔
خاص طور پر جدید جنگوں میں AI کا استعمال ایک خطرناک رجحان بن چکا ہے، جہاں مشینیں انسانی مداخلت کے بغیر فیصلے لینے کے قریب پہنچ رہی ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو بڑے پیمانے پر تباہی کو روکنا مشکل ہو جائے گا۔ یہی وہ پہلو ہے جو AI کو نعمت کے ساتھ ساتھ زحمت بھی بناتا ہے۔
حالیہ امریکہ، اسرائیل اور ایران جنگ میں Anthropic نامی کمپنی کے AI Cloud کا استعمال کرکے امریکن ملٹری نے، ایران میں ایک ہزار ٹارگٹ پر بیک وقت حملہ کیا۔ جبکہ امیریکن ڈیفینس سیکریٹری، پیٹ ہیگسیٹ نے Anthropic کو "سپلائی چین رسک ٹو نیشنل سیکورٹی" قرار دیا تھا۔ بہر حال دنیا کو AI کہ مدد سے ہوئی بے پناہ تباہی کو روکنا ہوگا۔ فلاحی معاملات کے لئے ہماری ریاست مہاراشٹر میں زراعت،تعلیم،صحت، صنعت، ماحولیات، پولس اور دیگر شعبوں میں اچھا اور بہتر استعمال کیا جاتا ہے۔
زراعت کی بات کریں تو AI کی مدد سے کسان، موسم، فصل اورنقصان دہ کیڑوں کے حملوں کا اندازہ لگا پارہے ہیں۔ اسمارٹ آبپاشی پانی کے ضائع ہونے کو روک رہی ہے۔ گنے میں شکر کی مقدار کٹائی سے پہلے چیک کی جارہی ہے۔ کم لاگت اور زیادہ پیداوار اور ذیادہ منافع کے لئے AI کا استعمال مفید ثابت ہورہا ہے۔ تعلیم کے شعبے میں AI نے انقلاب برپا کر دیا ہے۔حکومت کی AI Labs طلباء و ماہرین کی تربیت کررہی ہے۔ آج کل طلبہ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی رفتار کے مطابق تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اساتذہ کے لیے بھی AI کی مدد سے پیپر چیکنگ اور طلبہ کی کارکردگی کا تجزیہ آسان ہو گیا ہے۔ اس کے علاوہ، اسمارٹ لرننگ ایپس طلبہ کو ان کی کمزوریوں کے مطابق رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔AI کی مدد سے تعلیم کو رٹا اور یادداشت کے نظام سے نکال کر ذہانت کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔
صحت کے میدان میں بھی AI کا کردار بہت اہم ہے۔ ڈاکٹر حضرات AI کی مدد سے کینسر اور ٹی بی جیسے امراض کی قبل از وقت تشخیص کر سکتے ہیں۔ میڈیکل رپورٹس اور ایکس رے کا تجزیہ تیزی اور درستگی سے کیا جاتا ہے، جس سے مریضوں کو بہتر علاج فراہم کیا جا سکتا ہے۔AI کی مدد سے کسی اور ملک میں بیٹھ کر آپریشن کرنا آسان ہوا ہے۔ کئی جگہ AI روبوٹس نے ماہر ڈاکٹروں کے مقابلے ذیادہ بہتر طریقے سے آپریشن کئیے ہیں۔ اس کے علاوہ، AI مریضوں کی مسلسل نگرانی میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔
کاروبار اور بینکنگ کے شعبے میں AI نے کام کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔ کمپنیوں میں کسٹمر سروس کے لیے چیٹ بوٹس استعمال کیے جا رہے ہیں، جبکہ بینکنگ میں AI فراڈ کی نشاندہی اور ڈیجیٹل لین دین کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ آن لائن شاپنگ میں بھی صارفین کو ان کی پسند کے مطابق اشیاء دکھائی جاتی ہیں، جو AI کی بدولت ممکن ہے۔
ٹرانسپورٹ اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی AI نمایاں ہے۔ خودکار گاڑیاں، ٹریفک مینجمنٹ سسٹمز اور جدید نیویگیشن سسٹمز اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ یہ تمام سہولیات انسانی زندگی کو زیادہ محفوظ اور آرام دہ بنا رہی ہیں۔پولس اور سائبر کرائم کنٹرول میں Mahacrime OS سائبر کریمنل کو جلد از جلد ٹریک کرنے میں آسانی پیدا کر رہا ہے۔MARVEL نامی پروجیکٹ جرائم کی تشخیص میں مدد کر رہا ہے۔ حکومت اور عوامی خدمات کے ضمن میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ حکومت وقت کی ویلفئیر اسکیمیں، سبسڈی اور عوامی شکایات کے نظام کو AI کی مدد سے بہترین کیا جارہا ہے۔ Chatbots اور دیگر AI ٹولز کا استعمال کرکے پیپر ورک کو کم کرکے کام کو تیزی سے انجام دیا جارہا ہے۔ ماحولیات کے شعبے میں AI ماحول کی آلودگی کی نگرانی کرتا ہے۔ ڈرون اور دیگر ٹولز کی مدد سے ہائی وے پر بے قائدہ تجاوزات کی نگرانی کی جاتی ہے۔ شہری پلاننگ اور ٹریفک کے نظام کو AI کی مدد سے بہتر بنایا جارہا ہے۔ آخر میں یہ کہنا درست ہوگا کہ مصنوعی ذہانت موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت بن چکی ہے۔ یہ نہ صرف وقت اور محنت کی بچت کرتی ہے بلکہ زندگی کے مختلف شعبوں میں ترقی کا باعث بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس جدید ٹیکنالوجی کو سیکھیں اور مثبت انداز میں استعمال کریں تاکہ ہم ترقی کی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔
0 تبصرے