مالیگاؤں: نابالغ لڑکی کی غیر قانونی ڈلیوری اور نومولود کی مبینہ فروخت کا معاملہ، 11 افراد کے خلاف مقدمہ درج


پوکسو ایکٹ، جے جے ایکٹ اور بی این ایس کی متعدد دفعات کے تحت کارروائی؛ 8 ملزمان پولیس تحویل میں، 3 فرار

مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) مالیگاؤں شہر کے کیمپ پولیس اسٹیشن کی حدود میں ایک نابالغ لڑکی کے مبینہ جنسی استحصال، غیر قانونی طور پر ڈلیوری کرانے اور نومولود بچے کی مبینہ فروخت سے متعلق ایک سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس نے 11 افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرتے ہوئے آٹھ ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ تین ملزمان تاحال مفرور بتائے جا رہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سول اسپتال کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جتیندر راؤ ڈولارے (42) کی شکایت پر کیمپ پولیس اسٹیشن میں بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 64، 65، 137(2)، 140(3)، 143(4)، 3(2) کے علاوہ پوکسو ایکٹ کی دفعات 4، 6، 21 اور جووینائل جسٹس (JJ) ایکٹ کی دفعہ 81 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

پولیس رپورٹ کے مطابق ایک نامعلوم شخص نے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی استحصال کیا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔ الزام ہے کہ ملزم سنجے بھاگوت گاولی نے لڑکی کے حمل کی حقیقت کو پوشیدہ رکھنے کی نیت سے اسے ہیرائی اسپتال میں داخل کرایا۔ شکایت کے مطابق اسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کو اس بات کا علم تھا کہ لڑکی نابالغ ہے، اس کے باوجود انہوں نے قانون کے مطابق پولیس یا متعلقہ سرکاری محکموں کو اطلاع نہیں دی۔ مزید الزام ہے کہ اسپتال میں غیر قانونی طور پر سیزیرین آپریشن (سیزر) کے ذریعے ڈلیوری کرائی گئی اور بعد ازاں نابالغ لڑکی کی شناخت چھپانے کی غرض سے اسے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ 


شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ نومولود بچے کو فروخت کرنے کی نیت سے اپنے قبضے میں رکھا گیا تھا۔ اس معاملے میں نامعلوم شخص سمیت سنجے بھاگوت گاولی، پروین دیشمکھ، نندنی گاولی، ڈاکٹر کشور ڈانگے (ہیرائی اسپتال)، ڈاکٹر کشوری ڈانگے، ڈاکٹر انوجا شیوالے، ڈاکٹر پریتی جادھو، نوشین رفیق شیخ، محمد فہیم محمد شفیق اور سارتھک پروین جگتاپ کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ تمام نامزد ملزمان مالیگاؤں کے رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ پولیس نے گرفتار آٹھ ملزمان کو عدالت میں پیش کیا، جہاں عدالت نے انہیں 12 جون تک پولیس تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ تین دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس اس پورے معاملے کی مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہی ہے، جن میں نابالغ کے جنسی استحصال، حمل کو خفیہ رکھنے، غیر قانونی طبی کارروائی، ممکنہ اغوا، انسانی اسمگلنگ اور نومولود بچے کی مبینہ فروخت جیسے سنگین پہلو شامل ہیں۔ 

سینئر وکیل ایڈوکیٹ واصف نے اس معاملے کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر الزامات ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف پوکسو قانون بلکہ طبی اخلاقیات اور بچوں کے تحفظ سے متعلق قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت میں پیش ہونے والے شواہد اور پولیس تفتیش کے نتائج ہی اس کیس کی اصل حقیقت کو سامنے لائیں گے۔ پولیس حکام کے مطابق تحقیقات جاری ہیں اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ واقعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد شہر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور مختلف سماجی حلقوں کی جانب سے غیر جانبدارانہ اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post