جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی کا بڑا الزام، ایس آئی آر کی آڑ میں این آر سی نافذ کرنے کی سازش کا دعویٰ


مولانا ارشد مدنی کا وندے ماترم کی لازمی ادائیگی کی مخالفت پر دوٹوک موقف

نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ملک میں مبینہ طور پر ایس آئی آر (SIR) کی آڑ میں این آر سی نافذ کرنے کی کوششوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو جمعیۃ علماء ہند اس معاملے کو عدالت میں چیلنج کرے گی۔
دو روزہ مجلسِ عاملہ کے اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ملک میں مسلمانوں کے خلاف خوف اور نفرت کی سیاست کو فروغ دیا جا رہا ہے اور انہیں جمہوری حقوق خصوصاً حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بعض طاقتیں ملک کے سیکولر دستور اور جمہوری اقدار کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، لیکن جمعیۃ علماء ہند ہر سطح پر آئینی اور قانونی جدوجہد جاری رکھے گی۔


مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ ایس آئی آر کے نام پر اگر شہریوں کی شہریت یا ووٹنگ کے حق پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو یہ نہ صرف آئین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہوگا بلکہ اس سے ملک کے کمزور طبقات میں بے چینی بھی بڑھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند کسی بھی ایسی کوشش کو قبول نہیں کرے گی جس سے شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ تمام انصاف پسند اور سیکولر قوتیں متحد ہو کر نفرت کی سیاست کا مقابلہ کریں۔ 

مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ ہونے کے بجائے تعلیم، اتحاد اور آئینی جدوجہد پر توجہ دینی چاہیے۔ اجلاس میں ملک کی موجودہ سیاسی و سماجی صورتحال، اقلیتوں کے مسائل، وقف املاک، تعلیمی اداروں اور فرقہ وارانہ ماحول جیسے موضوعات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ مجلسِ عاملہ کے اراکین نے مختلف قراردادیں منظور کرتے ہوئے آئین اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے عزم کا اظہار کیا۔ مولانا ارشد مدنی نے وندے ماترم کے تعلق سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی بھی شہری کو کسی مخصوص نعرے یا گیت کے لیے مجبور کرنا آئینِ ہند کی بنیادی روح کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب، عقیدے اور نظریات کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دیتا ہے، اس لیے وندے ماترم کو زبردستی نافذ کرنا مناسب نہیں۔

Post a Comment

Previous Post Next Post