اس مہینے 20 مئی کو پورے ملک میں ایک بڑی ہڑتال کی خبر سامنے آ رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس ہڑتال میں تقریباً 12.4 لاکھ سے زیادہ کیمسٹ دکانیں بند رہ سکتی ہیں، جس کی وجہ سے عام لوگوں کو دوائیاں خریدنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ یہ ہڑتال آن لائن دوائیں فروخت کرنے والی ای-فارمیسی کمپنیوں کے خلاف کی جا رہی ہے۔ (آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ) کا کہنا ہے کہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بغیر صحیح جانچ کے دوائیں فروخت کی جا رہی ہیں، جو مریضوں کی حفاظت کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔(جاری)
آن لائن دواؤں سے بڑھ رہا خطرہ
کیمسٹ تنظیموں کا الزام ہے کہ کئی ای-فارمیسی ویب سائٹس بغیر ڈاکٹر کی مناسب جانچ کے ہی دوائیں فراہم کر رہی ہیں۔ کئی بار پرانے نسخوں (پریسکرپشن) کا بار بار استعمال کیا جاتا ہے، اور اب اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے جعلی پریسکرپشن بنا کر بھی دوائیں خریدی جا سکتی ہیں۔ اس سے اینٹی بایوٹک دواؤں کا غلط استعمال اور نشہ آور ادویات کے غلط استعمال میں تیزی سے اضافہ ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں سنگین صحت کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔(جاری)
چھوٹے میڈیکل اسٹورز پر براہِ راست اثر
اس کے علاوہ آن لائن پلیٹ فارمز پر بھاری ڈسکاؤنٹ دے کر دوائیں فروخت کرنے سے چھوٹے دکانداروں کا کاروبار بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ خاص طور پر دیہات اور چھوٹے شہروں میں، جہاں لوگ مقامی میڈیکل اسٹورز پر انحصار کرتے ہیں، وہاں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو کئی چھوٹی کیمسٹ دکانیں بند ہو سکتی ہیں، جس سے دواؤں کی دستیابی پر بھی اثر پڑے گا۔(جاری)
ہڑتال کے حوالے سے آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ نے کو ایک یادداشت بھیجی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ آن لائن دوا کمپنیوں کی بے ضابطہ سرگرمیوں سے نہ صرف چھوٹے کیمسٹوں کے کاروبار پر اثر پڑ رہا ہے بلکہ مریضوں کی حفاظت بھی خطرے میں پڑ رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 5 کروڑ لوگ فارماسیوٹیکل تجارت پر منحصر ہیں اور ان کے روزگار پر بحران کھڑا ہو گیا ہے۔
کیمسٹوں کے اہم مطالبات
کووڈ-19 کے دوران نافذ کیا گیا عارضی قانون جی ایس آر. 220(ای) فوری طور پر ختم کیا جائے، کیونکہ اب اس کا غلط فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔
ای-فارمیسی سے متعلق نوٹیفکیشن جی ایس آر . 817(ای) منسوخ کیا جائے تاکہ قوانین پر سختی سے عمل ہو سکے۔
آن لائن کمپنیوں کی جانب سے دیے جانے والے بھاری ڈسکاؤنٹس پر پابندی لگائی جائے تاکہ بازار میں توازن برقرار رہے اور چھوٹے دکانداروں کو نقصان نہ ہو۔
دواؤں کی فروخت کے لیے سخت قوانین نافذ کیے جائیں تاکہ مریضوں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے اور غلط استعمال کو روکا جا سکے۔(جاری)
آگے کیا ہوگا؟ تحریک بڑھ سکتی ہے
آل انڈیا آرگنائزیشن آف کیمسٹ اینڈ ڈرگیسٹ کے صدر جے۔ ایس۔ شندے اور جنرل سیکریٹری راجیو سنگھل کا کہنا ہے کہ یہ صرف کاروبار کا مسئلہ نہیں بلکہ مریضوں کی حفاظت سے جڑا معاملہ ہے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر 20 مئی تک کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا تو یہ ہڑتال آگے بھی جاری رہ سکتی ہے۔تاہم، راحت کی بات یہ ہے کہ کئی مقامات پر ایمرجنسی دواؤں کی فراہمی جاری رکھنے کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے تاکہ مریضوں کو زیادہ پریشانی نہ ہو۔