-9 مہینے بعد مردے سے زندہ ہوگیا نوجوان !... راز کھلا تو پولیس بھی رہ گئی حیران

 

مہاراشٹر کے گونڈیا سے ایک ایسا سنسنی خیز معاملہ سامنے آیا ہے جسے دیکھ کر پولیس بھی حیران رہ گئی۔ کیا کوئی شخص صرف 5 لاکھ روپے کے قرض سے بچنے کے لیے کسی بے گناہ کی جان لے سکتا ہے؟ اور کیا کوئی خود کو مردہ ثابت کرنے کے لیے اتنی خوفناک سازش رچ سکتا ہے؟ جی ہاں! ایک شاطر مجرم نے فلمی انداز میں اپنی موت کا ایسا جال بُنا کہ 9 ماہ تک پولیس بھی اسے مرا ہوا سمجھتی رہی، لیکن قانون کے لمبے ہاتھوں سے وہ بچ نہ سکا۔ ناگپور کی ایک کنسٹرکشن سائٹ سے وہ “مردہ” آخرکار زندہ گرفتار کر لیا گیا۔

گونڈیا ضلع کی دیوری تحصیل کے پوسٹ ساولی کے گاؤں ڈونگرگاؤں کا رہنے والا 28 سالہ انتِم اوم پرکاش کھوٹیلے نے پولٹری فارم (مرغی پالنے) کے لیے “دیوری اربن بینک” سے 5 لاکھ روپے کا قرض لیا تھا۔ کاروبار ٹھپ ہو گیا، پولٹری فارم بند ہو گیا اور سر پر قرض چڑھ گیا۔ اس قرض کی ادائیگی سے بچنے کے لیے انتِم نے ایسا خوفناک راستہ اختیار کیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔

29 اگست 2025 کا وہ ہولناک منظر...
آمگاؤں پولیس تھانہ علاقے کے برہمنی ریلوے پھاٹک کی ڈاؤن لائن (کھمبا نمبر 974/16/-10) پر ریلوے پٹری کے بیچوں بیچ ایک بری طرح کچلی ہوئی لاش ملی۔ پولیس موقع پر پہنچی۔ لاش کی جیب سے شناختی دستاویزات جیسے آدھار کارڈ، اے ٹی ایم کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر کاغذات برآمد ہوئے۔ قریب ہی ایک موٹر سائیکل بھی ملی۔ کاغذات کی بنیاد پر دنیا کی نظروں میں مرنے والا شخص کوئی اور نہیں بلکہ خود “انتِم کھوٹیلے” تھا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر حادثاتی موت کا معاملہ درج کر لیا۔

ٹوئسٹ: مگر کہانی میں کچھ گڑبڑ تھی
تحقیقات کے دوران پولیس کو شک ہوا کہ لاش کی عمر اور حلیہ انتِم کھوٹیلے سے پوری طرح میل نہیں کھاتے۔ چہرہ بری طرح کچلا گیا تھا تاکہ شناخت نہ ہو سکے۔ اسی دوران ڈونگرگاؤں کے رہنے والے رمیش شری کرشنا سراتے پولیس کے پاس پہنچے اور شکایت درج کرائی کہ ان کا 46 سالہ بھائی چندرکمار سراتے 28 اگست سے لاپتہ ہے، اور اسے آخری بار انتِم کھوٹیلے کے ساتھ اس کی بائیک پر جاتے دیکھا گیا تھا۔ لاپتہ چندرکمار غیر شادی شدہ تھا اور شراب کا عادی تھا، جس کا فائدہ شاطر انتِم نے اٹھایا۔

اپنے کپڑے لاش کو پہنا دیے
جب آمگاؤں تھانے کی پولیس نے تفتیش آگے بڑھائی تو خوفناک سچ ایک ایک کرکے سامنے آنے لگا۔ 28 اگست 2025 کو ملزم انتِم کھوٹیلے بے گناہ چندرکمار کو کام کا بہانہ بنا کر اپنی بائیک پر لے گیا، اسے خوب شراب پلائی، اور جب وہ نشے میں دھت ہو گیا تو گمچھے سے اس کا گلا گھونٹ کر بے رحمی سے قتل کر دیا۔ خود کو مردہ ثابت کرنے کے لیے انتِم نے اپنے کپڑے لاش کو پہنا دیے۔ لاش کی جیب میں اپنا آدھار کارڈ، اے ٹی ایم اور شناختی دستاویزات رکھ دیں اور بائیک بھی قریب کھڑی کر دی۔ شناخت مکمل طور پر مٹانے کے لیے اس نے لاش کی گردن ریلوے ٹریک پر رکھ دی تاکہ ٹرین سے چہرہ کچل جائے۔ اس ہولناک قتل کو انجام دے کر شاطر انتِم فرار ہو گیا۔ اس نے اپنے خاندان سے بھی رابطہ توڑ لیا تاکہ سب اسے مرا ہوا ہی سمجھیں۔

9 ماہ بعد ایسے چڑھا پولیس کے ہتھے...
کہتے ہیں کہ مجرم چاہے کتنا ہی شاطر کیوں نہ ہو، کوئی نہ کوئی سراغ چھوڑ ہی جاتا ہے۔ ناگپور کی ایک کنسٹرکشن کمپنی کی سائٹ پر سڑک کا کام کرتے ہوئے گاؤں کے ہی ایک شخص کی نظر اس “زندہ مردے” پر پڑ گئی اور خفیہ اطلاع فوراً پولیس تک پہنچ گئی۔ آمگاؤں تھانے کے پولیس انسپکٹر تروپتی رانے کی نگرانی میں تفتیشی افسر سپونی گُرنیلے نے جال بچھایا اور ناگپور سے ملزم انتِم کھوٹیلے کو گرفتار کر لیا۔ پولیس پوچھ گچھ میں ملزم نے اپنا خوفناک جرم قبول کر لیا ہے۔

18 مئی تک پولیس ریمانڈ
پولیس نے ملزم کے خلاف فریادی رمیش سراتے کی شکایت پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) 2023 کی دفعات 103(1) اور 238 کے تحت قتل اور ثبوت مٹانے کا سنگین مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے اسے 18 مئی تک پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا گیا۔ اب پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا اس خوفناک قتل میں کوئی اور بھی شامل تھا یا نہیں۔


Post a Comment

Previous Post Next Post