ودربھ میں کثیر الشعبہ نیشنل یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے پر SIO مہاراشٹر نارتھ کے وفد کی رکنِ پارلیمنٹ شری شیام کمار سے ملاقات



ناؤنیوزاپڈیٹ (پریس ریلیز) اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن آف انڈیا (SIO)، مہاراشٹر نارتھ کے پی آر اینڈ میڈیا سیکریٹری جناب تیسیر زید کی قیادت میں ایک وفد نے رامٹیک کے معزز رکنِ پارلیمنٹ شری شیام کمار بروے سے ملاقات کی۔ اس موقع پر وفد نے ودربھ میں کثیر الشعبہ مرکزی یونیورسٹی (Multidisciplinary Central University) کے قیام اور امتحانی نظام میں جامع اصلاحات سے متعلق گزارشات پیش کیں۔ ملاقات کے دوران تیسیر زید نے ودربھ میں اعلیٰ تعلیم کی موجودہ صورتحال اور ایک نیشنل یونیورسٹی کی ضرورت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وردھا میں مہاتما گاندھی ہندی یونیورسٹی، ایک نیشنل یونیورسٹی ہے، لیکن اس کا بنیادی دائرۂ کار ہندی زبان و ادب تک محدود ہے۔ ودربھ جیسے وسیع خطے کو سائنس، انجینئرنگ، طب، قانون، مینجمنٹ، سماجی علوم، انسانیات، زراعت، تحقیق و اختراع اور جدید ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں پر مشتمل ایک کثیر الشعبہ نیشنل یونیورسٹی کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ودربھ کی بڑی آبادی، لاکھوں طلبہ، صنعتی امکانات اور ناگپور کی قومی سطح پر اہم جغرافیائی حیثیت کے باوجود خطہ آج بھی ایک نیشنل یونیورسٹی سے محروم ہے۔ اس کے نتیجے میں ہزاروں طلبہ بہتر تعلیم کے لیے دیگر ریاستوں اور شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ ناگپور اپنی مرکزی جغرافیائی حیثیت، بہترین ریلوے، سڑک اور فضائی رابطوں، تعلیمی ماحول اور تحقیقی امکانات کی وجہ سے اس مجوزہ مرکزی یونیورسٹی کے قیام کے لیے سب سے موزوں مقام ہے۔ یہ ادارہ نہ صرف ودربھ کے گیارہ اضلاع بلکہ مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، تلنگانہ اور مہاراشٹر کے دیگر علاقوں کے طلبہ کے لیے بھی یکساں طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔

وفد نے اس موقع پر امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور طلبہ کو بروقت انصاف فراہم کرنے کے لیے جامع اصلاحات پر مشتمل ایک علیحدہ گزارشات بھی پیش کی۔ معزز رکنِ پارلیمنٹ شری شیام کمار بروے نے وفد کی باتوں کو غور سے سنا اور یقین دہانی کرائی کہ وہ ودربھ میں کثیر الشعبہ نیشنل یونیورسٹی کے قیام کے مطالبے کو مناسب سطح پر اٹھانے اور اس سلسلے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس موقع پر تیسیر زید نے کہا کہ "ودربھ میں کثیر الشعبہ نیشنل یونیورسٹی کا قیام صرف ایک تعلیمی مطالبہ نہیں بلکہ خطے کی متوازن ترقی، معیاری اعلیٰ تعلیم، تحقیق، روزگار اور لاکھوں نوجوانوں کے بہتر مستقبل سے وابستہ ایک اہم قومی ضرورت ہے۔"



Post a Comment

Previous Post Next Post