
کرنٹ حادثات، طبی لاپروائیاں اور بڑھتے جرائم و اموات کے درمیان مسلم قیادت کا فقدان نمایاں
مالیگاؤں (خصوصی رپورٹ جرنلسٹ عبداللہ انصاری) مالیگاؤں شہر ایک بار پھر کئی افسوسناک واقعات کے سبب عوامی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گزشتہ چند دنوں اور مہینوں کے دوران پیش آنے والے حادثات، مبینہ طبی لاپروائیاں، بجلی سے اموات اور بڑھتے جرائم نے شہریوں کو یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر مالیگاؤں میں انسانی جان کی قیمت کیا رہ گئی ہے؟ اور عوامی نمائندے و مسلم قیادت ان سنگین مسائل پر مؤثر آواز کیوں بلند نہیں کر رہی؟ گزشتہ شب نیاپورہ کے 4 سالہ معصوم محمد روشان کی کرنٹ لگنے سے موت نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ عوام نے بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا، مگر شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کے بعد چند دن شور مچتا ہے اور پھر معاملہ سرد خانے کی نذر ہو جاتا ہے۔
اسی طرح چند روز قبل ایک نجی میٹرنٹی ہوم میں ڈلیوری کے دوران 29 سالہ خاتون اور اس کے نومولود بچے کی موت کا معاملہ بھی سامنے آیا۔ متاثرہ خاندان نے شدید لاپروائی اور غلط علاج کے الزامات عائد کیے، مگر عوامی سطح پر یہ سوال مسلسل اٹھ رہا ہے کہ اگر الزامات اتنے سنگین ہیں تو اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف واضح قانونی کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ دوسری جانب بجلی کے کرنٹ سے ایک کمپنی ملازم کی موت اور 13 سالہ لڑکے کے شدید زخمی ہونے کے واقعے نے بھی شہر میں تشویش پیدا کی۔ شہریوں کا الزام ہے کہ متعلقہ ادارے حفاظتی انتظامات میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں، جس کا خمیازہ عام عوام کو اپنی جانوں سے چکانا پڑ رہا ہے۔صرف حادثات ہی نہیں بلکہ شہر میں چوری، گھر پھوڑی اور دیگر جرائم کے واقعات میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ متعدد علاقوں کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ وہ خود کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
شہریوں اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب کسی حادثے یا سانحے میں انسانی جان ضائع ہوتی ہے تو بعض اوقات معاوضے کے طور پر 10 یا 15 لاکھ روپے کی رقم کا اعلان کر دیا جاتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک ماں، ایک معصوم بچے یا ایک محنت کش کی جان کی قیمت صرف اتنی ہی ہے؟ کیا مالی امداد ذمہ داروں کی جوابدہی کا متبادل بن سکتی ہے؟تنقید کرنے والے حلقے یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ مالیگاؤں کی مسلم قیادت، سماجی تنظیمیں اور منتخب نمائندے عوامی مسائل پر متحد اور مضبوط موقف اختیار کرنے میں کیوں ناکام دکھائی دیتے ہیں؟ جب تک حادثات کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی، ادارہ جاتی اصلاحات اور مستقل نگرانی کا نظام قائم نہیں ہوگا، ایسے سانحات کے دوبارہ رونما ہونے کا خطرہ برقرار رہے گا۔
شہر کے باشعور افراد کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حادثات کے بعد صرف تعزیت اور معاوضوں کی سیاست کے بجائے جوابدہی، انصاف اور عوامی تحفظ کو ترجیح دی جائے، کیونکہ اگر انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی نہ بنایا گیا تو مالیگاؤں کے شہریوں کا نظام پر اعتماد مزید کمزور ہو سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ مالیگاؤں میں جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری کون لے گا، اور کیا ہر سانحے کے بعد صرف چند لاکھ روپے کا معاوضہ ہی انصاف سمجھا جائے گا? شہر کا ایک بڑا طبقہ، جس میں نوجوان، سماجی کارکنان اور مختلف تنظیمیں شامل ہیں، موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مالیگاؤں کے موجودہ حالات صرف قیادت کی کمزوری کا نتیجہ نہیں بلکہ انتظامیہ کی مبینہ لاپرواہی، سیاسی انتشار، کمزور نگرانی اور سماجی و معاشی مسائل کا مجموعہ ہیں۔
مبصرین کے مطابق شہر کو محفوظ، منظم اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے صرف سیاسی قیادت پر انحصار کافی نہیں ہوگا، بلکہ تمام سیاسی جماعتوں، علماء کرام، سماجی تنظیموں، دانشوروں، تاجروں، نوجوانوں اور عوام کو مشترکہ طور پر آگے آنا ہوگا۔ اجتماعی بیداری، مؤثر نگرانی، اداروں کی جوابدہی اور عوامی اتحاد ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے مالیگاؤں کو حادثات، جرائم اور بدانتظامی کے مسائل سے نکال کر ایک محفوظ اور بہتر مستقبل کی جانب لے جایا جا سکتا ہے۔ مالیگاؤں کے شہری اب صرف تعزیت، یقین دہانیوں اور معاوضوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات، شفاف تحقیقات، سخت جوابدہی اور مستقل اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ عوام کا ماننا ہے کہ اگر انسانی جان اور شہری تحفظ کو اولین ترجیح نہ دی گئی تو نہ صرف ایسے سانحات کا سلسلہ جاری رہے گا بلکہ عوام کا اعتماد بھی مزید متزلزل ہوتا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ مضمون عوامی خدشات اور مختلف آراء کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے، اور اس کا مقصد عوامی مسائل اور جوابدہی کے تقاضوں کو اجاگر کرنا ہے۔