مفتی اسماعیل قاسمی کے خلاف قانونی لڑائی سپریم کورٹ تک لے جانے کا فیصلہ: مستقیم ڈگنیٹی

 

ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی تیاریاں تیز

مالیگاؤں (نمائندہ) ممبئی ہائی کورٹ نے سابق رکن اسمبلی آصف شیخ کی جانب سے دائر کردہ انتخابی عرضداشت (الیکشن پٹیشن) کو خارج کر دیا ہے، جس میں موجودہ رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل قاسمی کے انتخاب کو چیلنج کیا گیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

اس سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے مقامی ذمہ دار مستقیم ڈگنٹی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور قانونی ماہرین سے مشاورت کے بعد جلد ہی سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت نامہ (Special Leave Petition) دائر کیا جائے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابی مہم کے دوران بعض ایسے بیانات اور مواد سامنے آئے تھے جنہیں انتخابی ضابطوں اور قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عدالت کے روبرو پیش کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 8 جون 2025 کو داخل کردہ جوابی حلف نامہ (Reply Affidavit) میں مختلف قانونی اور انتخابی نکات اٹھائے گئے تھے۔

مستقیم ڈگنٹی نے مزید الزام عائد کیا کہ مقدمے میں بحیثیت ریسپانڈنٹ شامل شانِ ہند نہال احمد کی جانب سے اٹھائے گئے بعض اعتراضات کو مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق معاملے کے مختلف قانونی پہلو ایسے ہیں جن پر اعلیٰ عدلیہ میں مزید غور کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی تیاریاں جاری ہیں اور وہ قانونی و آئینی دائرے میں رہتے ہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ واضح رہے کہ ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد اب اس معاملے کا اگلا مرحلہ سپریم کورٹ میں ممکنہ اپیل کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جس پر سیاسی اور قانونی حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔ 

Post a Comment

Previous Post Next Post