پہلی سے آٹھویں اور گیارہویں جماعت میں اضافی فیس وصولی کا معاملہ، ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن ناسک کو شکایت

 کارپوریٹر جاوید انیس کی عوام سے اپیل: زائد فیس نہ دیں، شکایت درج کرائیں

مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) مالیگاؤں شہر میں پہلی سے آٹھویں جماعت اور گیارہویں جماعت کے داخلوں کے دوران مبینہ طور پر اضافی فیس وصول کیے جانے کے خلاف ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن، ناسک کو باضابطہ شکایت پیش کی گئی ہے۔ وارڈ نمبر 3 سے اسلام پارٹی کے کارپوریٹر جاوید انیس (انجینئر) نے اپنے شکایتی مکتوب میں الزام عائد کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے گیارہویں جماعت کے داخلوں کا عمل آن لائن کیا گیا ہے اور طلبہ کی سہولت کے لیے جونیئر کالجوں کی فہرست بھی فراہم کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ فیس ویب سائٹ پر واضح طور پر درج ہونے کے باوجود بعض جونیئر کالج طلبہ سے مقررہ فیس کے علاوہ اضافی رقم وصول کر رہے ہیں۔

شکایت کے مطابق کئی طلبہ سے 3 ہزار، 5 ہزار، 18 ہزار اور بعض معاملات میں 31 ہزار روپے تک اضافی فیس وصول کی جا رہی ہے، جو کہ حکومتی ضوابط کی خلاف ورزی اور طلبہ و سرپرستوں کے ساتھ ناانصافی کے مترادف ہے۔ کارپوریٹر جاوید انیس نے اپنے مکتوب میں مزید نشاندہی کی کہ حکومت کی مفت تعلیم پالیسی کے تحت پہلی سے آٹھویں جماعت تک طلبہ سے کوئی فیس وصول نہیں کی جانی چاہیے، تاہم مالیگاؤں کے بعض امداد یافتہ اور پرائیویٹ اسکول داخلوں کے نام پر ایک ہزار سے آٹھ ہزار روپے تک فیس وصول کر رہے ہیں۔

انہوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر آف ایجوکیشن سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی فوری جانچ کر کے قصوروار تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور حکومت کی جانب سے منظور شدہ فیس کی تفصیلات عوام تک پہنچانے کے لیے اردو اور مراٹھی اخبارات میں باضابطہ پریس نوٹ جاری کیا جائے۔ اس شکایت کی ایک نقل مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے ایڈمنسٹریٹو آفیسر (AO) کو بھی ارسال کی گئی ہے۔ کارپوریٹر جاوید انیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر قانونی اور اضافی فیس ادا نہ کریں۔ اگر کوئی اسکول یا جونیئر کالج سرکاری ضوابط سے زیادہ فیس طلب کرے تو فوری طور پر شکایت درج کرائیں تاکہ طلبہ اور والدین کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post