سیاسی دباؤ میں مسلم نوجوانوں کو پھنسایا جا رہا ہے: آصف شیخ، ناسک کورٹ میں دفاع کا مؤقف
مالیگاؤں (ناؤنیوزاپڈیٹ) ناسک کے زیرِ بحث TCS معاملے میں ندا خان سمیت چھ ملزمین کے خلاف درج مقدمہ کی سماعت جمعرات کو ناسک عدالت میں ہوئی، جہاں ملزم دانش شیخ کی جانب سے معروف وکیل ایڈوکیٹ فیض واصف نے دفاعی دلائل پیش کیے۔ عدالت نے فریقین کے مؤقف سننے کے بعد آئندہ سماعت 19 جون مقرر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق پولیس نے ندا خان سمیت چھ افراد کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ مقدمہ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمین نے ایک غیر مسلم لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے پر آمادہ کیا اور اس کے ساتھ زیادتی کی۔ اس کیس میں دانش شیخ کو بھی اہم ملزم قرار دیا گیا ہے۔
ملزم دانش شیخ کی جانب سے مائناریٹی ڈیفنس کمیٹی کے کنوینر آصف شیخ نے ایڈوکیٹ فیض واصف کی خدمات حاصل کی ہیں۔ سماعت کے دوران دفاعی وکیل نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی جانب سے داخل کردہ چارج شیٹ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملزمین کو سیاسی دباؤ کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انہیں "بلی کا بکرا" بنایا گیا ہے۔ ایڈوکیٹ فیض واصف نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاملہ دراصل تبدیلیٔ مذہب کا نہیں بلکہ اسے سیاسی رنگ دے کر پیش کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بلا ٹھوس شواہد گرفتار کیا گیا ہے، لہٰذا عدالت دانش شیخ اور دیگر ملزمین کو رہائی فراہم کرے۔
دفاعی وکیل نے اپنے دلائل کی تائید میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے متعدد فیصلوں کا حوالہ بھی پیش کیا۔ عدالت نے دفاعی فریق کی بحث کا نوٹس لیتے ہوئے سرکاری وکیل سے جواب طلب کیا۔ اس پر سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لیے مزید مہلت مانگی، جسے قبول کرتے ہوئے عدالت نے آئندہ سماعت 19 جون تک ملتوی کر دی۔ اسلام پارٹی کے بانی آصف شیخ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومتی دباؤ اور سیاسی طاقتوں کے اثر و رسوخ کے باعث مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ سماعت کے موقع پر دانش شیخ سمیت دیگر پانچوں ملزمین کے اہلِ خانہ بھی عدالت میں موجود تھے۔
