مالیگاؤں: کرنٹ لگنے سے 4 سالہ محمد روشان جاں بحق، بجلی کمپنی کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ

 

نیاپورہ کے 4 سالہ محمد روشان کی موت پر عوام مشتعل، بجلی کمپنی پر مقدمہ اور 15 لاکھ روپے معاوضے کا مطالبہ

مالیگاؤں (نمائندہ) شہر میں بجلی کمپنی کی مبینہ لاپرواہی کے باعث پیش آنے والے حادثات کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ حالیہ دنوں میں کرنٹ لگنے سے متعدد افراد اور جانور متاثر ہوئے ہیں، جبکہ ایک نوجوان کی موت کا معاملہ ابھی سرد بھی نہیں ہوا تھا کہ نیاپورہ میں ایک اور دلخراش حادثہ پیش آگیا، جس میں چار سالہ معصوم بچہ محمد روشان خلیق الزمان جاں بحق ہوگیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق نیاپورہ گلی نمبر 2 کا رہائشی محمد روشان اپنے گھر کے قریب گلی میں کھیل رہا تھا کہ اچانک ایک بجلی کے کھمبے میں کرنٹ دوڑنے لگا۔ بچہ کھمبے کی زد میں آیا اور شدید کرنٹ لگنے سے بے ہوش ہوگیا۔ اہل خانہ اور مقامی افراد نے فوری طور پر اسے علاج کے لیے اقرا اسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

واقعہ کی اطلاع ملتے ہی علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور مقامی شہریوں نے نورانی مسجد کے قریب سڑک پر دھرنا دے کر راستہ روکو احتجاج شروع کردیا۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ متعلقہ بجلی کے کھمبے میں کرنٹ آنے کی شکایت بقرعید سے قبل بجلی کمپنی کو دی گئی تھی، تاہم کمپنی نے اس جانب کوئی توجہ نہیں دی، جس کے نتیجے میں آج ایک معصوم جان ضائع ہوگئی۔ متوفی کے چچا نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ خاندان میں شادی کی تقریبات جاری تھیں اور گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا، لیکن اس افسوسناک حادثے نے خوشیوں کو ماتم میں تبدیل کردیا۔ انہوں نے بجلی کمپنی کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ 

اس موقع پر معاون کارپوریٹر سہیل ماسٹر نے کہا کہ محمد روشان کی موت براہِ راست بجلی کمپنی کی لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متوفی کے اہل خانہ کو کم از کم 15 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک معاوضے کا اعلان نہیں کیا جاتا، لاش نہیں اٹھائی جائے گی۔حادثے کی اطلاع ملنے پر آزاد نگر پولیس موقع پر پہنچی اور حالات کا جائزہ لیا۔ پولیس نے بجلی کمپنی کے افسران کو بھی موقع پر طلب کیا۔ بعد ازاں لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اہل محلہ، سماجی کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد جمع ہوگئی اور احتجاج جاری رکھا۔

سماجی کارکن خالد شیخ رشید، شفیق اینٹی کرپشن اور احسان شیخ نے بجلی کمپنی کے افسران پریم سنگھ اور ساحل سر سے رابطہ کرتے ہوئے سخت ناراضی کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کمپنی کی مسلسل غفلت کے باعث شہر میں جان لیوا حادثات رونما ہورہے ہیں، لیکن ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی۔ انہوں نے فوری معاوضہ اور قصوروار افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ دریں اثنا سینئر کارپوریٹر کلیم دلاور اور مستقیم ڈگنیٹی بھی سول اسپتال پہنچے اور متاثرہ خاندان سے ملاقات کی۔ انہوں نے بجلی کمپنی اور متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر شدید سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مسلسل حادثات کے باوجود حفاظتی اقدامات نہ کرنا سنگین غفلت کے مترادف ہے۔

رات گئے تک نیاپورہ نورانی مسجد کے قریب احتجاج جاری رہا۔ مشتعل شہریوں نے بجلی کمپنی کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے راستہ روکو تحریک جاری رکھی۔ اطلاعات کے مطابق بجلی کمپنی کی ایک ٹیم متاثرہ کھمبے کی مرمت کے لیے پہنچی، تاہم مشتعل عوام نے انہیں کام کرنے سے روک دیا اور پہلے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر مستقیم ڈگنیٹی نے کہا کہ محمد روشان کی موت کی مکمل ذمہ داری بجلی کمپنی پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے پولیس محکمہ سے مطالبہ کیا کہ کمپنی کی لاپرواہی کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور قصوروار افسران کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ آئندہ ایسے المناک حادثات کی روک تھام ممکن ہوسکے۔ علاقے میں صورتحال کشیدہ مگر قابو میں بتائی جارہی ہے، جبکہ عوام انصاف اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے مطالبے پر قائم ہیں۔ 

Post a Comment

Previous Post Next Post