ڈلیوری کے دوران خاتون اور نومولود کی موت، نابالغ لڑکی کی غیر قانونی ڈلیوری اور نومولود کی مبینہ فروخت کے معاملات کے بعد محکمۂ صحت حرکت میں
مالیگاؤں (نمائندہ خصوصی) مالیگاؤں شہر میں حالیہ دنوں سامنے آئے دو سنگین معاملات کے بعد محکمۂ صحت نے صدیقی میٹرنٹی ہوم کے خلاف جانچ کا عمل شروع کر دیا ہے۔ سول اسپتال کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جتیندر راؤ ڈولارے نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ صدیقی میٹرنٹی ہوم کی مکمل جانچ جاری ہے اور تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایک 29 سالہ خاتون اور اس کے نومولود بچے کی ڈلیوری کے دوران مبینہ طبی لاپروائی کے سبب موت واقع ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا، جس کے بعد متوفیہ کے اہلِ خانہ نے خاتون ڈاکٹر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ اس واقعہ نے شہر میں تشویش کی لہر دوڑا دی تھی اور محکمۂ صحت سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب نابالغ لڑکی کی مبینہ غیر قانونی ڈلیوری اور پیدا ہونے والے نومولود بچے کی مبینہ فروخت کے معاملے میں بھی پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ڈاکٹر کشور ڈانگے اور متعدد افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق محکمۂ صحت کو آرائی ہسپتال اور دیگر متعلقہ مراکز کے حوالے سے بھی غیر قانونی ڈلیوری، اسقاطِ حمل (ابارشن) اور طبی ضابطوں کی خلاف ورزیوں سے متعلق شکایات موصول ہو رہی تھیں، جن کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ اس حساس کیس کے منظر عام پر آنے کے بعد متعلقہ طبی اداروں کے کردار پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور شہری حلقوں کی جانب سے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر جتیندر راؤ ڈولارے کے مطابق محکمۂ صحت کی جانب سے ایک خصوصی انکوائری ٹیم تشکیل دی گئی ہے، جو صدیقی میٹرنٹی ہوم کے ریکارڈ، لائسنس، طبی سہولیات، ڈلیوری سے متعلق دستاویزات اور دیگر ضروری امور کی جانچ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی بھی قسم کی بے ضابطگی، قواعد کی خلاف ورزی یا طبی لاپروائی ثابت ہوتی ہے تو متعلقہ ادارے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
