اساتذہ سے اپروول اور تنخواہ کے نام پر 36 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کرنے کا الزام، مخالفت پر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں
مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) شہر اور ریاست بھر میں اسکول انتظامیہ کی جانب سے اساتذہ کو ہراساں کرنے اور مالی استحصال کے معاملات مسلسل سامنے آرہے ہیں۔ کئی اساتذہ مصلحتاً خاموش رہ کر تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، تاہم اب ایسے معاملات کھل کر منظر عام پر آنے لگے ہیں۔ اسی سلسلے میں مالیگاؤں کے ایک اردو اسکول کے خلاف درج ہونے والی نئی شکایت نے تعلیمی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
موصولہ تفصیلات کے مطابق رمضان پورہ دیانہ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع کریسنٹ اردو پری پرائمری اینڈ پرائمری اسکول کے خلاف مالی دھوکہ دہی اور دھمکی دینے کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے۔ شکایت کنندہ خاتون ٹیچر حنا کوثر عبدالرشید (32)، ساکن اسلامپورہ، نے پولیس میں درج کرائی گئی شکایت میں الزام عائد کیا ہے کہ اسکول سوسائٹی کے سکریٹری عقیل احمد عبد الحمید (48) ساکن نیا اسلامپورہ اور انصاری غفران احمد محمد یوسف (78) ساکن انصار روڈ اسلامپورہ، نے آپسی ملی بھگت سے ان سمیت 16 اساتذہ سے مجموعی طور پر 36 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کیے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان نے اساتذہ کو سرکاری اپروول دلانے اور باقاعدہ تنخواہ شروع کروانے کا جھانسہ دیا تھا۔ اسی مقصد کیلئے مبینہ طور پر “کنسٹرکشن فنڈ” کے نام پر فی ٹیچر 50 ہزار روپے کے حساب سے مجموعی 8 لاکھ روپے وصول کیے گئے، تاہم نہ تو اپروول دلایا گیا اور نہ ہی رقم واپس کی گئی۔ شکایت میں مزید کہا گیا ہے کہ جنوری 2023ء سے دسمبر 2025ء کے دوران اساتذہ کو دی جانے والی 9 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ میں سے زبردستی 5 ہزار روپے نقد واپس لیے جاتے تھے۔ اس طرح 16 اساتذہ سے مجموعی طور پر 28 لاکھ 80 ہزار روپے وصول کیے گئے۔ متاثرہ اساتذہ نے یہ بھی الزام لگایا کہ رقم واپس نہ کرنے یا مخالفت کرنے پر نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔ اس معاملے میں رمضان پورہ دیانہ پولیس اسٹیشن میں گناہ رجسٹرڈ نمبر 78/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعات 318(2)، 318(4) اور 351(2) کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق معاملے کی مزید جانچ پولیس سب انسپکٹر چوہان کررہے ہیں۔
Tags
Urdu
This comment has been removed by the author.
ReplyDelete