بجلی کمپنی کی مبینہ لاپرواہی، کرنٹ لگنے سے مزمل حسین جاں بحق، ورثاء کا میت اٹھانے سے انکار



بجلی کے تاروں اور ٹرانسفارمر کی فوری مرمت، نیز 25 لاکھ روپے معاوضے کا مطالبہ

مالیگاؤں (ناؤنیوزاپڈیٹ) رمضان پورہ کے امین آباد علاقے میں بجلی کمپنی کی مبینہ غفلت اور لاپرواہی کے سبب ایک افسوسناک حادثہ پیش آیا، جس میں ہائی وولٹیج بجلی کے تار سے کرنٹ لگنے کے باعث ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ متوفی کی شناخت مزمل حسین عبدالقدوس کے طور پر ہوئی ہے، جو پیشے سے ایک سماجی کارکن (سوشل ورکر) تھے۔

تفصیلات کے مطابق، مزمل حسین کے پڑوس میں ان کی پھوپھی کا انتقال ہو گیا تھا۔ تدفین اور تعزیت کے لیے آنے والے افراد کو بارش سے بچانے کی غرض سے پنڈال اور پردے لگانے کا انتظام کیا جا رہا تھا۔ اسی دوران جب مزمل حسین نے لوہے کا پائپ اٹھایا تو وہ اوپر سے گزرنے والی 11 ہزار یا 33 ہزار وولٹ کی ہائی وولٹیج لائن سے چھو گیا، جس کے نتیجے میں انہیں شدید کرنٹ لگا اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

حادثے کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی افراد اور وارڈ کے نمائندگان، جن میں کارپوریٹر صغیر احمد، عبدالباقی اور منا ممبر شامل ہیں، نے الزام عائد کیا کہ بجلی کمپنی کی نااہلی اور غفلت کے باعث یہ سانحہ پیش آیا۔ عوام کا کہنا ہے کہ علاقے میں بجلی کے تار انتہائی نیچے لٹک رہے ہیں، جبکہ ٹرانسفارمر (ڈی پی) بھی زمین سے محض چار سے پانچ فٹ کی بلندی پر نصب ہے، جس کی وجہ سے ہر وقت بچوں اور راہگیروں کی جان کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔

مقامی افراد کے مطابق، اس سے قبل بھی متعلقہ حکام، انجینئروں اور افسران کو متعدد مرتبہ تحریری اور زبانی شکایات کی جا چکی تھیں اور موقع کا معائنہ بھی کروایا گیا تھا، لیکن بجلی کمپنی کی جانب سے کوئی مؤثر اقدام نہیں اٹھایا گیا، جس کا نتیجہ آج ایک قیمتی جان کے ضیاع کی صورت میں سامنے آیا۔ذرائع کے مطابق، مرحوم مزمل حسین اپنے گھر کے واحد کفیل تھے۔ ان کے پسماندگان میں دو کم سن بیٹیاں شامل ہیں۔

مظاہرین اور ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ:

بجلی کمپنی کے اعلیٰ حکام فوری طور پر موقع پر پہنچ کر متاثرین سے بات چیت کریں۔

متاثرہ خاندان کو فوری طور پر 25 لاکھ روپے بطور معاوضہ فراہم کیا جائے۔

 لاپرواہی برتنے والے متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

علاقے میں لٹکتے ہوئے بجلی کے تاروں اور خطرناک ٹرانسفارمر کو فوری طور پر درست کیا جائے۔

مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاوضے اور بجلی کے تاروں کی مرمت کے حوالے سے تحریری یقین دہانی نہیں کرائی جاتی، وہ میت کو نہیں اٹھائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انتظامیہ نے زبردستی کرنے کی کوشش کی تو وہ میت کو پاور ہاؤس کے گیٹ پر لے جا کر احتجاج اور دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بجلی کمپنی کے افسران اور پولیس انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی اور حالات کو قابو میں کرنے کے ساتھ مسئلے کے حل کی کوششوں میں مصروف ہے۔

Post a Comment

Previous Post Next Post