مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کا انتباہ، “داخلہ سے انکار کرنے والی اسکولوں کیخلاف ہوگی کارروائی”
مالیگاؤں (اسٹاف رپورٹر) مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کے کوآرڈینیٹر مستقیم ڈگنیٹی نے شہر میں جنم داخلہ (برتھ سرٹیفکیٹ) معاملہ پر بڑھتی عوامی پریشانی کو لے کر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مالیگاؤں شہر میں بڑی تعداد میں والدین اپنے بچوں کے اسکولی داخلوں کو لے کر سخت فکر مند ہیں، کیونکہ کئی بچوں کے جنم داخلے رد ہونے یا زیرِ کارروائی ہونے کے سبب اسکول انتظامیہ داخلہ دینے سے انکار کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عام طور پر اپریل سے جون کے درمیان اسکولوں میں نئے تعلیمی سال کیلئے داخلے ہوتے ہیں، لیکن اس مرتبہ شہر کے مختلف علاقوں سے مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی کو مسلسل شکایات موصول ہورہی ہیں کہ بچوں کی عمر بڑھنے کے باوجود صرف جنم داخلہ کی تکنیکی دشواریوں کی بنیاد پر انہیں اسکول میں داخلہ نہیں دیا جارہا ہے۔
مستقیم ڈگنیٹی کے مطابق تحصیلدار کے حکم پر اے ایچ کی جانب سے ایک مکتوب جاری کیا گیا ہے، جس میں واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ جن افراد کے جنم داخلے کسی وجہ سے رد ہوگئے ہیں یا ان کی درستی کا عمل جاری ہے، ایسے بچوں کو بھی اسکول داخلہ سے محروم نہ رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی کوئی بھی اسکول انتظامیہ صرف جنم داخلہ کے مسئلہ کی بنیاد پر بچوں کو “نو انٹری” نہ دے، بصورت دیگر اگر اس قسم کی شکایت موصول ہوئی تو اسکول انتظامیہ کیخلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے شہر کی تمام اسکول انتظامیہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جن بچوں کے جنم داخلے زیرِ تصحیح ہیں یا نئے سرے سے بنائے جارہے ہیں، انہیں انسانی ہمدردی اور تعلیمی حق کی بنیاد پر فوری داخلہ دیا جائے تاکہ ان کا تعلیمی نقصان نہ ہو۔اس موقع پر مستقیم ڈگنیٹی نے جنم داخلہ درستی معاملہ پر بتایا کہ موجودہ رفتار کے مطابق صرف دو ہزار جنم داخلوں کی ہی درستی ممکن ہو پارہی ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس سنگین مسئلہ کو فوری طور پر حل کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملہ کی جانچ کیلئے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کو ایک سال مکمل ہوچکا ہے، لیکن اب تک مالیگاؤں میں ایک بھی بنگلہ دیشی یا روہنگیا مسلمان کی موجودگی ثابت نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ مائناریٹی ڈیفینس کمیٹی نے مقامی عدالت سے لے کر ہائی کورٹ تک متعدد افراد کی ضمانتیں منظور کروائی ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کی مسلسل مداخلت اور دباؤ کے سبب مسلمانوں کو ہراساں کرنے کیلئے اقدامات کئے گئے، جس کے نتیجہ میں ہندو بھائیوں کو بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑرہی ہیں۔ آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جنم داخلہ معاملہ کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے انسانی اور تعلیمی مسئلہ سمجھتے ہوئے فوری اور مستقل حل نکالا جائے۔
Tags
Urdu