مالیگاؤں کا پہلا امیدوار جس نے اپنا منشور جاری کیا


مالیگاؤں کا زہران ممدانی : احتشام شیخ بیکری والا

مالیگاؤں(عبداللہ انصاری) مالیگاؤں شہر میں ان دنوں کارپوریشن انتخابات کی گہماگہمی عروج پر ہے۔ ہر سیاسی جماعت اور امیدوار اپنے اپنے حلقے کو امریکہ، جاپان، سنگاپور اور دیگر ترقی یافتہ ممالک جیسا بنانے کے خواب عوام کو دکھا رہا ہے۔ مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر امیدوار ایک، دو نہیں بلکہ تین سے پانچ مرتبہ منتخب ہو چکے ہیں، اس کے باوجود ان کے علاقوں کی حالت آج بھی انتہائی خستہ حال ہے۔ دوسری جانب کئی ایسے امیدوار بھی میدان میں ہیں جو صرف پیسے کے زور پر یا خاندانی سیاست کے سہارے الیکشن لڑ رہے ہیں، جن کا عوامی مسائل سے کوئی حقیقی تعلق نظر نہیں آتا۔


ایسے حالات میں مالیگاؤں شہر میں گزشتہ دس برسوں سے سماجی و فلاحی خدمات انجام دینے والے تعلیم یافتہ نوجوان احتشام شیخ بیکری والا (آزاد امیدوار، وارڈ نمبر 15) عوامی مسائل کے عملی حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کے واضح مقصد کے ساتھ انتخابی میدان میں اترے ہیں۔ احتشام بیکری والا کی جدوجہد امریکہ کے نو منتخب میئر زہران ممدانی کی یاد دلاتی ہے، جنہوں نے محض عوامی مسائل، بنیادی سہولیات اور عام شہری کی تکالیف کو اپنی سیاست کا محور بنایا۔ زہران ممدانی نے عوام کے درمیان رہ کر، ان کے دکھ درد کو سمجھ کر اور انہی حقیقی مسائل پر الیکشن لڑ کر کامیابی حاصل کی اور ایک مثالی قیادت کی مثال قائم کی۔


آج مالیگاؤں شہر کو بھی ایسے ہی مخلص، عوام دوست اور زمینی سطح پر کام کرنے والے لیڈروں کی اشد ضرورت ہے، نہ کہ ایسے موقع پرست سیاستدانوں کی جو صرف ووٹ مانگنے کے وقت عوام کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں اور اس کے بعد پانچ سال تک غائب رہتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ سوال چرچا میں ہے کہ جو پانچ سال بعد نظر آئے، وہ نمائندہ کیسا؟۔ مالیگاؤں میں اب ووٹر صرف چہرے اور پارٹی نہیں، کارکردگی اور نیت بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وارڈ نمبر 15 میں احتشام بیکری والا کی مہم کو عوامی مسائل کی سیاست کہا جا رہا ہے۔ کیا مالیگاؤں کو بھی زہران ممدانی جیسی عوام دوست قیادت ملنے والی ہے؟ یہ سوال اب ہر گلی، ہر چوک اور ہر ووٹر کی زبان پر ہر ووٹر کی زبان پر ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے